فہم القرآن
ربط کلام: لوگوں کے درمیان اصحاب کہف کی تعداد کے بارے میں اختلاف رہا ہے، اس بارے میں خصوصی ہدایت۔
اصحاب کہف کے بارے میں شروع سے لوگوں میں یہ اختلاف رہا ہے کہ ان کی تعداد کتنی تھی ؟ یہی اختلاف نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں بھی تھا۔ کچھ لوگ کہتے تھے کہ وہ تین آدمی تھے اور چوتھا ان کا کتا تھا۔ دوسروں کا خیال تھا کہ وہ پانچ تھے اور چھٹا ان کا کتا تھا۔ تیسرے گروہ کا خیال تھا کہ وہ سات جوان تھے اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ کہہ کر اس بحث سے لاتعلق رہنے کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ آپ فرمائیں کہ میرا رب ان کی تعداد کو خوب جانتا ہے۔ ان کی صحیح تعداد کو بہت تھوڑے لوگ جانتے ہیں لہٰذا آپ کو اس معاملے میں سرسری گفتگو سے بڑھ کرزیادہ بات نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی اصحاب کہف کے بارے میں کسی سے جاننے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ نوجوان تھوڑے ہوں یا زیادہ اصل بات تو ان کا عقیدہ اور کردار ہے۔
(مَایَعْلَمُھُمْ الاَّ قَلِیْلٌ) [ الکھف: 22]
" چند لوگوں کے سوا اصحاب کہف کے بارے میں کوئی نہیں جانتا۔"
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرمایا کرتے تھے کہ میں ان قلیل لوگوں میں سے ہوں جو جانتے ہیں کہ ان کی اصل تعداد کیا تھی۔ اپنے موقف کی تائید کے لیے وہ یہ دلیل دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے اسی آیت میں پہلی دو تعداد کا یہ کہہ کر رد فرمایا ہے کہ اس کے بارے میں لوگ اٹکل پچوسے باتیں کرتے ہیں۔ اصحاب کہف کی تعداد سات تھی اور آٹھواں ان کا کتا تھا یہ بتلاکر اس کی تردید نہیں کی گئی۔ اس بنیاد پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی تعداد سات تھی اور آٹھواں ان کا کتا تھا۔ (واللہ اعلم)
اس آیت مبارکہ میں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مخاطب کرتے ہوئے مسلمانوں کو یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جن باتوں کا براہ راست شریعت اور عمل کے ساتھ تعلق نہ ہو۔ انکے بارے میں بحث مباحثہ اور پوچھ گچھ کرنا مناسب نہیں کیونکہ جن لوگوں کو لایعنی باتوں میں پوچھ گچھ اور بحث ومباحثہ کرنے کی عادت ہوجائے۔ دیکھا گیا ہے کہ ان لوگوں کی اکثریت بے عمل ہوتی ہے۔ بلکہ ان کی غالب اکثریت گمراہ ہوجایا کرتی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایسے لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے۔
' حضرت علی (رض) کہتے ہیں جب میں تمہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی حدیث بیان کروں تو اللہ کی قسم ! مجھے آسمان سے گرنا زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پرجھوٹ بولوں۔ جب میں تمہارے اور اپنے درمیان بات کرتا ہوں تو یقیناً جنگ دھوکہ ہے۔ یقیناً میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ فرما رہے تھے۔ آخری زمانے میں لوگ ہوں گے، چرب زبان، نادان ہوں گے، اچھی اور بھلائی کی بات کرنے والے ہوں گے، ان کا ایمان ان کی حلقوم سے تجاوز نہیں کرے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر کمان سے نکلتا ہے۔ جہاں بھی تم انہیں پاؤقتل کردو۔ یقیناً ان کو قتل کرنے والے آدمی کے لیے قیامت کے دن اجر ہوگا۔" [ رواہ البخاری: کتاب استتابۃ المرتدین]
(عَنْ عَلِیِّ إِنِّی سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ےَقُوْلُ سَےَخْرُجُ قُوْمٌ فِی اٰخِرِ الزَّمَانِ حُدَّاثُ الْاَنْسنَانِِ سُفَھَآءُ الْاَحْلَامِ ےَقُولُوْنَ مِنْ قَوْلِ خَےْرِ الْبَرِیَّۃِ لَا ےُجَاوِزُ اِےْمَانُھُمْ حَنَاجِرَھُمْ ےَمْرُقُوْنَ مِنَ الَّدِےْنَ کَمَا ےَمْرُقُ السُّھْمُ مِنَ الرَّمْےَۃِ) [ رواہ ا لبخاری: کتاب استتابۃ المرتدین باب قتل الخوارج]
" حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں کہ آخری زمانے میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو نوعمر، عقل ودانش کے لحاظ سے نادان، کتاب وسنت کو پیش کریں گے مگر حقیقتاً نور ایمان سے ایسے خالی ہوں گے کیونکہ ایمان ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار ہوجاتا ہے۔"
تفسیربالقرآن
ہر چیزکا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے:
1۔ فرما دیجیے ! میرا پروردگار ہی ان کی تعداد کا علم رکھتا ہے۔ (الکھف: 22)
2۔ اصحاب کہف نے کہا تمہارا رب جانتا ہے تم کتنی دیر ٹھہرے ہو؟ (الکھف: 19)
3۔ اللہ جانتا ہے رسالت کسے عطا کرنی ہے ؟ (الانعام: 124) 4۔ اللہ تعالیٰ دلوں کے بھید جانتا ہے۔ (ھود: 5)
5۔ اللہ جانتا ہے جو ان کے دلوں میں ہے۔ (ھود: 31) 6۔ اللہ ہدایت یافتہ لوگوں کو جانتا ہے۔ (القلم: 7)