سورۃ الاخلاص کا تعارف
یہ سورت بھی مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اس کی چار آیات ہیں جنہیں ایک رکوع شمار کیا گیا ہے اس کا نام اس لیے الاخلاص رکھا گیا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی توحید خالص کا تذکرہ ہے جس کے بغیر کوئی عبادت بھی قبول نہیں ہوتی۔
سورت اخلاص کا تعارف
اس مختصر سورت میں توحید خالص کو کھول کر بیان کیا گیا ہے، اختصار مگر جامع اور دوٹوک طرز بیان کی بنا پر اسے سورت اخلاص کے نام سے لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کے بارے میں مشرکین کے درمیان جس قدر شبہات پائے جاتے ہیں، ان کی بڑے سادہ انداز اور الفاظ میں نفی کی گئی ہے اور اسلام کے بنیادی عقیدہ توحید کو کھول کر بیان کیا گیا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سورت کی عظمت وفضیلت کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
(عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احْشِدُوا فَإِنِّی سَأَقْرَأُ عَلَیْکُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ ثُمَّ خَرَجَ نَبِیُّ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَرَأَ (قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ) ثُمَّ دَخَلَ فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ إِنِّی أُرَی ہَذَا خَبَرٌ جَاءَ ہُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَاکَ الَّذِی أَدْخَلَہُ ثُمَّ خَرَجَ نَبِیُّ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ إِنِّی قُلْتُ لَکُمْ سَأَقْرَأُ عَلَیْکُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ أَلاَ إِنَّہَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ)
(رواہ مسلم: باب فضل قراء ۃ سورۃ قل ھو اللہ احد)
" حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ سے فرمایا جمع ہو جاؤمیں تمہیں قرآن کا ایک تہائی حصہ سنانا چاہتا ہوں، لوگ اکٹھے ہوگئے پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے نکلے اور آپ نے سورۃ الاخلاص کی تلاوت فرمائی پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر واپس چلے گئے لوگوں نے آپس میں باتیں کرنی شروع کردیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر کوئی وحی نازل ہونے والی ہے اس وجہ سے آپ گھر چلے گئے ہیں اتنی دیر میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر سے واپس آئے اور فرمایا کہ میں نے تمہیں کہا تھا میں تمہیں قرآن ایک تہائی حصہ سناؤں گا بے شک اللہ تعالیٰ نے سورۃ الاخلاص کو ہی قرآن کا ایک تہائی حصہ قرار دیے دیا ہے۔"
(عَنْ عَاءِشَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بَعَثَ رَجُلاً عَلَی سَرِیَّۃٍوَکَانَ یَقْرَأُ لأَصْحَابِہِ فِی صَلاَتِہِ فَیَخْتِمُ بِ (قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ) فَلَمَّا رَجَعُوا ذَکَرُوا ذَلِکَ للنَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ سَلُوہُ لأَیِّ شَیْءٍ یَصْنَعُ ذَلِکَ فَسَأَلُوہُ فَقَالَ لأَنَّہَا صِفَۃُ الرَّحْمَنِ وَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِہَا فَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَخْبِرُوہُ أَنَّ اللَّہَ یُحِبُّہُ) (رواہ البخاری: باب مَا جَاءَ فِی دُعَاء النَّبِیِّ(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أُمَّتَہُ إِلَی تَوْحِید اللہِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی)
" حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو کسی لشکر کا سردار بنا کر روانہ کیا۔ وہ جب نماز پڑھاتا تو اپنی قراءت سورۃ اخلاص پر ختم کرتا پھر جب یہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس کا ذکر کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتا ہے ؟ لوگوں نے اس سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ اس سورت میں الرحمن کی صفات ہیں جن کو تلاوت کرنا مجھے اچھا لگتا ہے۔ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔"