دروازے کھولے جاتے ہیں ، اس سے پتہ چلتا ہے کہ جہنم زمین میں ہے ۔۔۔ اور روح قبض کرنے کی کیفیت کے سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ آپ نے کافر کی روح کے بارے میں فرمایا:
(( حتی ینتھی بہ إلی السماء الدنیا، فیستفتح لہ، فلا یفتح لہ ، ثم قرأ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: { لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ } [1] ، فیقول اللّٰہ عزوجل: اکتبوا کتابہ في سجین في الأرض السفلی'' ثم قال:۔۔''۔فتطرح روحہ طرحًا۔۔۔ ) )الحدیث [2] بطولہ [3]
[2] التخویف من النار والتعریف بحال دار البوار، ص۶۳۔
[3] مسند احمد، ۴/۲۸۷ و ۲۹۵ و۲۹۶و ابوداود، حدیث (۴۳۵۳) ، والنسائی، ۴/۱۰۱، والحاکم ۱/۳۷ تا ۴۰ وغیرھم، امام البانی رحمہ اللہ نے احکام الجنائز (ص۱۵۸) میں اس حدیث کی سندیں جمع کی ہیں اور اس کی تخریج و تصحیح میں شرح و بسط سے کام لیا ہے۔