فهرس الكتاب

الصفحة 40 من 265

منھم۔''

اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے تم میری بات کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو۔

قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ نے انہیں زندہ فرمایا، یہاں تک کہ زجر و توبیخ ، ذلت و رسوائی اور حسرت و ندامت کی خاطر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات انہیں سنائی۔ [1]

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے' کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

''مثلي کمثل رجلٍ استوقد نارًا، فلما أضاء ت ماحولھا جعل الفراش وھذہ الدواب التي في النار یقعن فیھا، وجعل یحجزھن ویغلبنہ فیتقحمن فیھا، [2] قال:

[2] ''التقحم'' کے معنیٰ دشوار معاملات میں بلا سوجھ بوجھ ٹوٹ پڑنے کے ہیں، اور ''الحجز'' حجزۃ کی جمع ہے ، کمرمیں تہبند اور ازار وغیرہ باندھنے کی جگہ کو کہا جاتا ہے۔ صحیح مسلم بشرح نووی '۱۵/۵۵۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت