فهرس الكتاب

الصفحة 479 من 480

محبت کے بغیر اطاعت سے انسان منزلِ مقصود تک نہیں پہنچتا اور نہ ہی گوہرِ نایاب ہاتھ آتا ہے، اس کے بعد بڑے درد بھرے انداز میں یہ شعر پڑھا ع

لقد لسعت حیۃ الھوی کبدي لا طبیب لھا ولا راقي

ایک مرتبہ ذکر کے موضوع پر بات کر رہے تھے کہ اللہ کی یاد سے کوئی لمحہ خالی نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی بندگی میں جس قدر وقت گزر جائے غنیمت ہے۔ فرمایا کہ سید الاولین والآخرین کو حکم ہوا: {وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ} اور پھر اس کی ترجمانی میں جذب کے عالم میں شیخ فرید کا یہ شعر پڑھا ع

کُوک فریدا کُوک توں جیویں راکھا ہے جوار

جد تک ٹانڈا نہ پکے تو کردا رہ پکار

بلاشبہ حضرت رحمہ اللہ ایک سچے ''صوفی'' اور درویش منش انسان تھے۔ کئی مجلسوں میں مسلمانوں کی زبوں حالی پر انھیں کڑھتے دیکھا۔ انھیں قوم کے واعظوں سے بھی شکوہ تھا۔ فرمایا کرتے: جس ملک میں خداوند قدوس کا انکار ہو، اس کے دین سے کھلے بندوں استہزا ہو، شیطان چوراہوں میں ننگا ناچ رہا ہو، اس میں فروعی اختلافات کو ہوا دینا کوئی دین کی خدمت نہیں۔ وہ صحیح معنوں میں عالمِ دین تھے۔ اللہ کریم کی محبت اور اس کا ڈر ان کے رگ و ریشے میں رچا بسا تھا۔ واقف کار حضرات جانتے ہیں کہ انھیں بسا اوقات غلبہ حال میں ماہی بے آب کی طرح تڑپتے بھی دیکھا گیا۔

میں نے کئی دوستوں اور بزرگوں سے ان کی ابتدائی زندگی اور حالیہ زندگی کی کچھ مجبوریوں کی بنا پر کوتاہیوں پر شکوہ بھی سنا۔ لیکن شاید کسی عارف کا یہ قول انھیں معلوم نہیں۔

ہر کہ درد اہلِ ہنر در اہلِ عیب آفتابے دارد اندر جیب غیب

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت