فهرس الكتاب

الصفحة 478 من 480

پابندی نہ تھی کہ اب مل کر اسمِ اعظم کا ذکر کرو، پھر افضل الذکر اکٹھے پڑھو، جیسا کہ عمومًا مجالسِ ذکر میں ہوتا ہے۔ البتہ حضرت سید صاحب رحمہ اللہ مخصوص غزنوی انداز میں کچھ وقت کے بعد استغفراللہ فرماتے اور کبھی اللہ کا مبارک نام لیتے۔ تقریبًا پندرہ بیس منٹ تک یہ سلسلہ جاری رہتا، اس کے بعد ریاض الصالحین یا کسی اور کتاب سے دو تین احادیث کا مختصر درس ہوتا اور پھر موسم کے مطابق حاضرین کی تواضع کرتے۔ اس کے بعد یہ مجلس ختم ہو جاتی۔

اللہ ذوالجلال نے انھیں بے شمار خوبیوں سے نوازا تھا۔ جہاں جس مجلس میں بیٹھتے اپنی شاہانہ انفرادیت قائم رکھتے۔ جس موضوع پر گفتگو ہوتی اس پر عقلی و نقلی دلائل کے انبار لگا دیتے۔ فارسی تو آپ کی مادری زبان تھی۔ اردو کے علاوہ عربی اور انگلش پر بھی عبور تھا، جب چاہتے بلا تکلف سب زبانوں میں گفتگو کرتے، عربی بولتے تو یوں محسوس ہوتا کہ حجاز کے کوئی شیخ محوِ گفتگو ہیں۔ شعر و شاعری سے بھی آپ کو لگاؤ تھا۔ اردو، عربی اور پنجابی کے ہزاروں اشعار ازبر تھے۔

لائل پور تشریف لاتے تو اکثر و بیشتر جناب میاں عبدالواحد صاحب کے ہاں قیام ہوتا۔ ایک مرتبہ مجلس گرم تھی، عابد و معبود کے موضوع پر باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب نے ہیر وارث شاہ کا یہ جملہ پڑھا ع

انا انا تے نحن کدوں آکھیا میں میں تے آکھیا قالو بلیٰ نا تھا

تو حضرت رحمہ اللہ نے برجستہ فرمایا ع

میں کہہ کے بلیٰ پھنس گیا بلا میں مدام

یہ بلا اک میرے لیے ہے اور میں بلا کے لیے

ایک مرتبہ بیٹھے ہوئے اللہ سے محبت کی باتیں ہو رہی تھیں، فرما رہے تھے کہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت