فهرس الكتاب

الصفحة 477 من 480

تو الوداعی سلام کے بعد فرمایا: لاہور کبھی آؤ تو مجھے ضرور ملو، پھر تفصیل سے باتیں ہوں گی۔ یہاں زیادہ گفتگو مناسب نہیں۔

یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ جس سے ان کی محبت و عقیدت کا آغاز ہوا اور پھر یہ تعلق بدستور بڑھتا گیا۔

اس کے بعد لاہور جاتا تو زیارت کی کوشش کرتا۔ گرمیوں کے موسم میں ایک مرتبہ عصر کی نماز کے قریب پہنچا۔ موسم کے مناسب مشروب سے مہمانی کی اور فرمایا میں نے ابھی عصر کی نماز پڑھنی ہے۔ نماز سے فراغت کے بعد بیٹھیں گے۔ چند لمحے بعد وضو کر کے واپس تشریف لائے۔ انھوں نے نماز پڑھائی۔ کسی زمانے میں غزنوی طریقۂ نماز سن رکھا تھا۔ آج اس کا مشاہدہ کیا۔ تقریبًا بیس منٹ میں نماز سے فارغ ہوئے۔ نماز میں جو سکون و اطمینان حاصل ہوا، افسوس وہ آج تک دوبارہ حاصل نہ ہو سکا۔

نماز کے بعد چائے آگئی، اسی دوران کچھ طالب علمانہ سوال کیے۔ ذکر و اذکار کے طریقہ کا سبق لیا۔ کوئی آدھ گھنٹے بعد اجازت طلب کی تو فرمانے لگے اتنی جلدی؟ میں بڑھ کر گلے سے چمٹ گیا اور گردن کا بوسہ لیتے ہوئے کہا:

لپٹ کر چُوس لے گل کواری بلبل چمن میں پھر بہار آئے نہ آئے

فرمانے لگے اس قدر دیوانگی اچھی نہیں، میں نے معًا عرض کی:

دیوانگی عشق بڑی چیز ہے سیماب یہ اس کا کرم ہے جسے دیوانہ بنا دے

تو ہنس دیے۔ ان سے رخصت ہوا تو دیر تک یوں گنگناتا رہا ع

نازم بچشم خود کہ جمال تو دیدہ است رفتم بپائے خود کہ بکویت رسیدہ است

حضرت رحمہ اللہ نے مجلسِ ذکر قائم کر رکھی تھی تین، چار مرتبہ اس میں بھی حاضری کا موقع ملا، جس کا طریقہ یہ تھا کہ ہر صاحب حسبِ حال آہستہ ذکر کرتے، کوئی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت