اشتراک کی بنا پر انھیں حقیقی بھائی سمجھنے یا نہ سمجھنے میں اشتباہ پیدا ہو جاتا ہے۔ جس کی بنا پر محدثین نے اس پر مستقل کتابیں لکھی ہیں۔ جن میں امام علی بن مدینی، ابو داود، النسائی، ابوالعباس السراج رحمہم اللہ کی کتابوں کا ذکر ملتا ہے۔ ابن فطیس رحمہ اللہ نے بھی اس پر ایک کتاب لکھی ہے۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ کی اس کتاب کا ذکر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ''الاصابہ'' (۸/۵۹) اور علامہ سیوطی رحمہ اللہ نے ''تدریب الراوی'' (ص: ۵۱۲) میں مخضرمین کی بحث کے تحت کیا ہے۔
اس کا نسخہ دارالکتب المصریہ میں پایا جاتا ہے۔
22 کتاب الرمی والنضال:
شیخ محمد یوسف نے اس کا ذکر ''الخطیب البغدادي ومؤرخ بغداد و محدثھا'' (ص: ۹۶) میں کیا ہے۔
23 مسند أبو حنیفۃ:
ایضًا (ص: ۹۷) ۔
24 تسمیۃ من روی عن أولاد العشرۃ:
ایضًا (ص: ۱۰۸) ۔
25 کتاب الأسخیاء:
رسالہ کا موضوع نام سے ظاہر ہے، اس میں امام دارقطنی رحمہ اللہ نے ان روایات کو جمع کیا ہے جو سخیوں کی نسبت مروی ہیں۔ ایشیا ٹک سوسائٹی بنگال پارک