چنانچہ فنِ قراء ت پر انھوں نے ایک رسالہ لکھا ہے، جس کی ابتدا میں چند ابواب ایسے ذکر کیے ہیں، جن میں اصول و قواعد کو بیان کیا ہے اور بعد کے مصنّفین نے اس طریقے میں ان ہی کی پیروی کی ہے۔
علامہ ابن جزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
''وألف في القراءة کتابًا جلیلًا لم یؤلف مثلہ وھو أول من وضع أبواب الأصول قبل الفرش ولم یعرف مقدار ھذا الکتاب إلامن وقف علیہ'' [1]
خطیب بغدادی رحمہ اللہ اسی کتاب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
''منھا القراءة فإن لہ فیھا کتابًا مختصرًا موجزًا جمع الأصول في أبواب عقدھا أول الکتاب وسمعت بعض من یعتني بعلوم القرآن یقول لم یسبق أبو الحسن إلی طریقتہ التي سلکھا في عقد الأبواب المقدمۃ في أول القراءة وصار القراء بعدہ یسلکون طریقتھم في تصانیفھم'' [2]
زرکلی نے لکھا ہے کہ انھوں نے یہ اپنی آخر عمر میں بغداد میں لکھی تھی۔ [3]
علامہ الکتانی رحمہ اللہ نے اس کا ذکر ''الرسالۃ'' (ص: ۴۲) میں کیا ہے۔
20 کتاب الأخوۃ:
یہ بھی فنِ حدیث کا ایک اہم شعبہ ہے، چونکہ دو شخصیتوں کی ولدیت میں
[2] تاریخ بغداد (۱۲/۳۴) .
[3] أعلام (۵/۱۳) .