فهرس الكتاب

الصفحة 476 من 480

حضرت سید صاحب تشریف لائے ہیں۔ واپس لوٹا اور جلدی سے سلام کے بعد نعلین اٹھا کر معتکف میں رکھ لیے۔ آپ نے وضو کیا میں پاس کھڑا ان کی ایک ایک حرکت دیکھ رہا تھا۔ محسوس یوں ہوتا تھا کہ آپ ہاتھ پانی سے نہیں آنسوؤں سے دھو رہے ہیں اور بار بار وضو کے دوران یہ دعا پڑھ رہے ہیں:

''اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِيْ ذَنْبِيْ وَ وَسِّعْ لِيْ دَارِيْ وَبَارِکْ لِيْ فِيْ رِزْقِيْ''

میں نے ایک دفعہ ان سے خطبہ جمعہ میں سنا تھا کہ نماز میں اطمینان اور خشوع و خضوع کے لیے ضروری ہے کہ وضو پوری جمعیت سے کیا جائے اور ہاتھ دھوتے وقت یہ خیال کرے کہ آقا کے سامنے ہاتھ مل مل کے گناہوں کی معافی مانگ رہا ہوں۔ اسی طرح دیگر اعضا کو دھوتے ہوئے ان کے گناہوں کی معافی طلب کرے اور بار بار یہ دعا پڑھتا جائے۔ الحمد اللہ کہ آج اس کا عملی نمونہ ان گنہگار آنکھوں نے دیکھا۔ وضو سے فارغ ہو کر میرا نام پوچھا۔ میں نے نام بتلایا تومعًا سینے سے لگا لیا اور فرمایا: یہاں تم ہی سے تو ملنے آیا ہوں۔ اس کے بعد میرے ساتھ ہی معتکف میں تشریف لے آئے۔ لمحہ بھر خاموشی کے بعد عرض کی حضرت دعا فرمائیے۔ فرمایا: میں تو خود دعا کے لیے آیا ہوں، تم دعا کرو میں آمین کہوں گا۔ یہ سن کر ندامت سے سر جھک گیا۔ میں نے پھر عرض کی حضرت دعا فرمائیے مجھے دعا کرنے کا سلیقہ نہیں آتا۔ انھوں نے پھر فرمایا: نہیں، تم دعا کرو میں آمین کہوں گا۔

چنانچہ ہاتھ اٹھائے اور مختصر مگر جامع دعا کی۔ دعا سے فارغ ہوئے تو میں نے پھر خیریت پوچھی۔ فرمایا، خیریت ہے، میں نے عزم کر لیا ہے کہ واپس لاہور جا کر باقی ایام اعتکاف میں گزاروں گا۔ جو سکون یہاں چند لمحے میں حاصل ہوا۔ اس کا تصور بھی باہر کی دنیا میں ممکن نہیں، اتنے میں نماز کا وقت ہو گیا۔ نماز سے فارغ ہوئے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت