فهرس الكتاب

الصفحة 475 من 480

بلاشبہ حضرت رحمہ اللہ نے بجا فرمایا اور امید ہے کہ تاریخ کا طالب علم بھی اس سے اتفاق کرے گا کہ جس طرح سید الطائفہ شیخ جنید بغدادی رحمہ اللہ نے شریعت و طریقت کی ثنویت پر ضرب کاری لگا کر باطنیہ کے سیلِ رواں کے سامنے بند باندھا۔ دلائل و براہین سے علم ظاہر یعنی علم شریعت کی برتری کو ثابت کیا اور کتاب و سنت ہی کو اساسِ روحانیت اور معیارِ ولایت قرار دیا، اسی طرح حضرت غزنوی رحمہ اللہ نے بدعی اور نظام خانقاہی کے مقابلے میں خالص کتاب و سنت کو اصلاحِ نفس کا معیار قرار دیا۔ غزل گوئی (جسے اصطلاحًا صوفیا سماع کے لفظ سے تعبیر کرتے ہیں) اور اشتغالِ صوفیا سے بیزاری کا اعلان کیا۔ تلاوتِ قرآن پاک اور ادعیہ ماثورہ کو اوڑھنا بچھونا بنایا، بلکہ لطائف و اشغالِ صوفیا کو احداث فی الدین قرار دیا۔

سید ابو بکر غزنوی رحمہ اللہ اسی عظیم خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کو علومِ قدیمہ و جدیدہ میں مہارت کے ساتھ و جاہت، للہیت، استغنا، درویشی میں بادشاہی، ذکر و اذکار میں انہماک، فقرا سے محبت اپنے خاندان سے ورثہ میں ملا۔ راقم السطور سے ان کا تعارف غالبًا ۱۹۷۰ء میں ہوا۔ آپ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں لائل پور تشریف لائے، یہ ناکارہ ان دنوں معتکف تھا۔ استاذ محترم مولانا محمد عبداللہ صاحب رحمہ اللہ سے گزارش کی کہ میرا پیغام حضرت سید صاحب تک پہنچا دیں: ''مسجد کے کونے میں ایک درویش زیارت کا متمنی ہے، شرعی حدود مانع نہ ہوتیں تو حاضرِ خدمت ہوتا۔''

حسبِ اطلاع دوپہر کے وقت مسجد میں ان کی تشریف آوری کا پیغام پہنچا تو عصر کے بعد جناب میاں عبدالواحد کے ساتھ مسجد منٹگمری بازار میں تشریف لائے۔ میں ابھی وضو سے فارغ ہو کر معتکف میں جارہا تھا کہ پیچھے سے آواز سنائی دی کہ

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت