عاقبت روزے بودکاں آفتاب در برش گیر دلبر انداز نقاب
بلاشبہ وہ جلد ہی آفتاب بن کر چمکے اور جلد غروب ہو گئے۔ بڑے خوش نصیب ہیں، جنھوں نے ان سے روشنی حاصل کی۔ ان کی مجلسوں اور محفلوں سے دل کی اجڑی دنیا کو بسایا۔ اپنے اللہ کریم کو راضی کرنے کا ان سے سلیقہ سیکھا، لیکن آہ! اپنا تو یہ حال ہے ع
در مجلس وصالت خمہا کشند مرداں چوں در خسرو آید مئے در سبو نماند
اللہ تعالیٰ ہماری اور ان کی لغزشوں پر نظرِ عفو فرمائے اور انھیں اعلیٰ علیین میں جگہ بخشے۔ میں نے انھیں دعائے یوسفی بکثرت پڑھتے سنا۔ امید واثق ہے کہ اللہ کریم و رحیم نے اسی کے مطابق معاملہ کیا ہو گا۔
بشکریہ
ہفت روزہ ''الاسلام''
۸؍ اکتوبر ۱۹۷۶ء