فهرس الكتاب

الصفحة 464 من 480

ویسے بھی مولانا مرحوم اصحابِ ذکر کی طرح ذکر و فکر کے آدمی نہ تھے۔ یا ممکن ہے انھیں یہ بتلانے میں تامل ہو۔ بہرحال اس ناکارہ کی اس کے بعد جب جناب حافظ محمد یوسف صاحب سے ملاقات ہوئی تو اسی سابقہ حوالے میں میں نے اس دعا کا تذکرہ کیا اور اس بارے میں سوال کیا کہ وہ کون سی دعا تھی۔ چنانچہ انھوں نے اس سلسلے میں حضرت نواب صدیق حسن خان مرحوم کی ''نزل الابرار'' کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ فلاں دعا ہے اور اس کے ساتھ انھوں نے ایک واقعہ بھی بیان کیا ہے۔ اس واقعہ کی تفصیل کا یہ مقام نہیں۔ خلاصہ یہ کہ وہ ''دعا الکرب'' ہے جسے امام المحدثین امام بخاری رحمہ اللہ نے الدعوات میں اسی عنوان کے تحت ذکر کیا ہے۔ اللھم وفقنا لمرضیاتک

حضرت سید صاحب کے سانحۂ ارتحال کی خبر ملی تو ہم ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے ان کے گاؤں پہنچے۔ گاؤں میں وسائل آمد و رفت کے نہ ہونے کے باوجود ایک جمِ غفیر تھا۔ اس ناکارہ نے اپنے ہاتھوں سے اور آنکھوں کے سامنے درجنوں افراد و احباب کو قبر میں اتارا اور قبر میں میت کو رکھتے ہوئے دیکھا، مگر ہمیشہ قبر سے وحشت اور خوف طاری ہوا۔ مگر حضرت شاہ صاحب مرحوم کی قبر کو ان کے دفن سے پہلے اور دفن کے وقت دیکھا۔ یقین کیجیے دل میں بار بار یہ خواہش اٹھتی کہ کاش اس قبر میں آج مجھے دفن کیا جاتا۔ قبر سے ہمیشہ وحشت ہوئی لیکن یہ وہاں بالکل مفقود تھی۔ اسی اثنا میں یہ بھی ہوا کہ حضرت چیمہ صاحب مرحوم قبر میں اترے اور قبر میں کچھ دیر لیٹے رہے۔ اس کے بعد حضرت شاہ صاحب کو لحد میں اتارا گیا، دفن کے بعد جب قبر کے بارے میں میں نے اپنے احساسات کا ان سے ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا: یہی کیفیت میری تھی اور اسی بنا پر تو میں قبر میں لیٹ گیا تھا۔ گویا حضرت شاہ صاحب کی قبر سے ''روضۃ من ریاض الجنۃ'' کا احساس ابھر رہا تھا کہ یہ قبر نہیں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت