فهرس الكتاب

الصفحة 465 من 480

جنت کے باغیچوں میں سے ایک باغیچہ محسوس ہو رہا ہے۔

اللّٰھم توفنا مسلمین وألحقنا بالأنبیاء والصالحین، آمین یا رب العالمین۔

٭ حضرت چیمہ مرحوم کی محبوب شخصیتوں میں ایک استاذ العلماء حضرت محدث گوندلوی رحمہ اللہ تھے۔ جو اپنے علم و فضل، ذکر و فکر اور استغناء میں اپنے اقران پر فائق تھے۔ سلف کی یادگار اور ''العلماء ورثۃ الأنبیاء'' کے سچے اور صحیح مصداق تھے۔ آپ ہمیشہ ان کے علم و عمل کا ذکر کرتے، مگر جماعت کو چلانے کے لیے جس تدبر اور منتظمانہ صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے اس بارے میں وہ ان سے اختلاف کرتے، یہی وجہ ہے کہ حضرت حافظ صاحب کو امیر بنایا گیا تو چیمہ صاحب نے عہدۂ امارت کے لیے ان کا نام پیش کرنے والوں سے اختلاف کیا۔ مگر اس کے باوجود کبھی ان کے احترام میں نہ خلل واقع ہوا نہ کوئی کمی محسو س ہوئی۔

٭ اسی طرح ان کی پسندیدہ شخصیتوں میں ایک حضرت مولانا سید محمد داود غزنوی مرحوم تھے، جن کی عظمتوں سے زمانہ واقف ہے۔ مولانا غزنوی رحمہ اللہ کا جماعتی زندگی میں ایک خاص مزاج تھا اور ان کے ہمنواؤں میں ایک حضرت چیمہ مرحوم تھے۔ جمعیۃ کی تشکیل کا دور مولانا کی جوانی کا دور تھا۔ جس میں انھوں نے خوب محنت کی، جس کے ہمیشہ مولانا غزنوی رحمہ اللہ معترف رہے۔

بہت کم احباب کو علم ہے کہ آل پاکستان اہلِ حدیث کانفرنس جب گوجرانوالہ میں ہوئی اور اس میں مولاناعبدالمجید سوہدروی مرحوم اور مولانا غزنوی مرحوم کے مابین تلخ کلامی ہوئی۔ عین ممکن تھا کہ جمعیۃ کا وجود اسی روز دو دھڑوں میں تقسیم ہو جاتا، مگر اس تلخی کو ختم کرانے میں حضرت چیمہ مرحوم کے تدبر نے کام کیا۔ ان کی انہی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت