سے ہمیں ہماری دال روٹی کا لطف نہیں آئے گا۔ ایک روز کی روٹی سے اپنے ہمیشہ کے کھانے کا ذائقہ کیوں خراب کریں۔ مستجاب الدعوات تھے، مگر ان سے دعا کروانا ایک مشکل مسئلہ تھا۔ جب کوئی دعا کی التجا کرتا تو فرماتے حضرت صوفی صاحب سے دعا کراؤ۔ میرے بارے میں تمھیں کسی نے غلط فہمی میں مبتلا کر دیا ہے۔ یہ بات کچھ اس انداز اور بے نفسی سے فرماتے کہ آنکھیں چھلک جاتیں۔ ذکر و اذکار او رصوم و صلاۃ کے ساتھ ساتھ باقاعدہ اہتمام سے صحیح بخاری شریف مع فتح الباری کا ہمیشہ مطالعہ کرتے۔ فیصل آباد تشریف لاتے تو حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب محدث امرتسری بانی کُلیہ دار القرآن اور حضرت الاستاذ مولانا محمد عبداللہ صاحب محدث فیصل آباد سے علمی مذاکرہ کرتے اور مسائل پر ان دونوں حضرات کی تحقیق و بصیرت کو بڑی وقعت کی نظر سے دیکھتے ان کے بارے میں بہت سی باتیں ہیں، مگر یہ ان کا محل نہیں۔
عرض یہ کرنا تھا کہ حضرت سید کوموی صاحب رحمہ اللہ سے بھی حضرت چیمہ مرحوم کو گہری عقیدت تھی۔ کئی بار انھیں اپنے ہاں رات ٹھہرایا۔ جی بھر کے خدمت کی اور ان سے خوب دعائیں لیں اور کئی بار ان کے آستانہ پر حاضری دی۔ ایک بار جیسا کہ انھوں نے بتلایا کہ میں پریشانیوں میں گھر گیا تو بذریعہ سکوٹر ''سید محمود'' ان کے ہاں حاضر ہوا۔ حالِ دل بیان کیا تو انھوں نے مجھے ایک دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی۔ جس کا اثر ایسا ہوا کہ میرے دل کو چند ہی دنوں میں قرار آگیا۔ میں جب وہ دعا پڑھتا تو مجھے یوں محسوس ہوتا کہ میرے دل پر برف گر رہی ہے۔ اس ناکارہ نے دریافت کیا کہ وہ دعا کون سی ہے تو انھوں نے فرمایا کہ افسوس کہ وہ دعا میں اب بھول گیا ہوں۔ البتہ جب حضرت شاہ صاحب نے مجھے اس کی تلقین فرمائی تو ان کے تلمیذ حافظ محمد یوسف صاحب وہاں موجود تھے۔ امید ہے انھیں یاد ہو گا، مجھے اس پر انتہائی تعجب ہوا۔