فهرس الكتاب

الصفحة 24 من 75

'' ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں کھلایا ، پلایا اور ہمیں مسلمان بنایا۔''

لیکن اسکی سند کی صحت میں اختلاف ہے ۔ علّامہ البانی رحمہ اللہ نے اِسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [1] جبکہ شیخ عبد القادر الارنائووط نے اس حدیث کو '' حسن '' لکھا ہے۔ [2] لہٰذا پہلی دعا کرنا ہی بہر حال بہتر ہے۔

14 بیت الخلاء میں داخل ہونے لگیں تو یہ دعا ضرور کرلیں:

(( اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الْخُبُثِ وَ الْخَبَائِثِ ) ) [3]

''اے اللہ ! میں خبیث جِنّوں اور خبیث جِننیوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔''

بعض روایات میں اس دعا کے شروع میں ''بِسْمِ اللّٰہِ'' کہنا بھی آیا ہے۔ [4]

اور بیت الخلاء سے نکلتے وقت یہ کہیں:

(( غُفْرَانَکَ ) ) [5] ''اے اللہ ! میں تجھ سے بخشش مانگتا ہوں۔''

15 جب کسی پر غصہ آجائے تو (( ا ) )پڑھیں۔ [6]

[2] الأذکار للنووي بتحقیق الأرناؤوط (ص: ۲۰۲)

[3] صحیح البخاري (۱/ ۶۷) رقم الحدیث (۱۴۲) صحیح مسلم (۱/ ۲۸۳)

[4] المعجم الأوسط (۳/ ۱۶۱) مصنف ابن ابی شیبۃ (۱/ ۱۱) فتح الباري (۱/ ۲۴۴) صحیح الجامع (۴۷۱۴)

[5] سنن أبي داود (۳۰) سنن الترمذي (۷) سنن ابن ماجہ (۳۰۰) مسند أحمد (۶/ ۱۵۵) اس حدیث کو امام ترمذی نے حسن اور امام ابن خزیمہ، ابن حبان، حاکم، ذہبی اور البانی رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے۔

[6] صحیح البخاري (۴/ ۱۱۲) رقم الحدیث (۶۱۱۵) صحیح مسلم (۲/ ۱۰۷) رقم الحدیث (۲۶۱۰)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت