فهرس الكتاب

الصفحة 23 من 75

لے تو شیطان (اپنے ساتھیوں سے) کہتا ہے: تمھیں رات گزارنے کی جگہ مل گئی۔ اور جب کھانا کھاتے وقت بھی اﷲ کا نام نہ لے تو وہ کہتا ہے: تمھیں رات گزارنے کو ٹھکانا بھی مل گیا اور رات کا کھانا بھی مل گیا۔''

13 جب کھانا کھانے لگیں تو کہیں: بِسْمِ اللّٰہِ ( اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں) ۔ [1]

اور جب شروع میں یہ کہنا بھول جائیں تو کھانے کے دوران یاد آتے ہی یہ کلمات کہیں:

(( بِسْمِ اللّٰہِ أَوَّلَہٗ وَ آخِرَہٗ ) )''اللہ ہی کے نام کے ساتھ [کھاتا ہوں] اسکے شروع میں اور اسکے آخر میں''۔ [2]

اور جب کھانے سے فارغ ہوں تو یہ دعا کریں:

(( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ أَطْعَمَنِیْ ہَذَا وَرَزَقَنِیْہِ مِنْ غَیْرِ حَوْلٍ مِّنِّیْ وَ لَا قُوَّۃٍ ) ) [3]

''ہر قسم کی تعریف اُس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے یہ کھانا کھلایا اور میری کسی بھی طاقت و قوت کے بغیر مجھے یہ کھانا عطا کیا۔''

اِسی موقع کی ایک دعا یہ بھی آئی ہے:

(( اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الّٰذِیْ اَطْعَمَنَا وَ سَقَانَا وَ جَعَلَنَا مُسْلِمِیْن ) ) [4]

[2] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۷۶۷) سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۸۵۸) اس حدیث کو امام ترمذی، ابن حبان اور البانی رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے۔

[3] سنن أبي داود (۴۵۲۳) سنن الترمذي (۳۴۵۸) سنن ابن ماجہ (۳۲۸۵) اس حدیث کو امام ترمذی اور علامہ البانی نے حسن اور امام حاکم نے صحیح کہا ہے۔

[4] سنن أبي داود (۳۸۵۰) سنن الترمذي (۳۴۵۷) سنن ابن ماجہ (۳۲۸۳) مسند احمد (۳/ ۳۲) اس کی سند میں اسماعیل بن ریاح راوی مجہول ہے، لہٰذا یہ روایت ضعیف ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت