6 قرآن کریم کی روسے بارش کا پانی بھی بڑا باعثِ برکت ہے۔ [1] لہٰذا مریض کو بارش کا پانی پلانا بھی مفیدِ مطلب ہے۔
7 غسل کرنا اور کم از کم ہر جمعہ کو۔ [2] اور ہر وقت صفائی ستھرائی رکھنا۔ ایک حدیث کی رُو سے خوشبو لگانا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ عمل ہے۔ [3] فرشتے خوشبو پسند کرتے ہیں اور جِنّ و شیاطین اس سے دور بھاگتے ہیں۔ [4] لہٰذا خوشبو سے استفادہ کیا جائے۔
غرض روحانی (کتاب و سنّت کی دعائیں ) اور مادی و طبّی ہر طرح کا علاج کیا جائے۔
[6] صدقہ و خیرات سے علاج:
صدقہ و خیرات کرنا بھی ردِّ بلاء کا ذریعہ ا ور باعثِ شفاء ہے اور ایک صحیح حدیث کی رو سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے توصدقے کے ذریعے علاج کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ [5]
سِحر [جادو] بر حق ہے۔ [6] سِحر اور اسکے مختلف صیغوں کا ذکر قرآن کریم میں (سورۃ البقرۃ ، آیت: ۱۰۲ کے علاوہ) کم و بیش ساٹھ (۶۰) مقامات پر آیا ہے۔ [7]
[2] صحیح البخاري، رقم الحدیث (۸۲۰) صحیح مسلم، رقم الحدیث (۸۴۶)
[3] مسند أحمد (۳/ ۱۲۸) سنن النسائي، رقم الحدیث (۳۹۴۰) اس حدیث کو امام حاکم، ذہبی اور البانی رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے۔
[4] زاد المعاد (۴/ ۳۰۸)
[5] شعب الإیمان (۳/ ۲۸۲) صحیح الجامع، رقم الحدیث (۳۳۵۸)
[6] الاعراف، آیت: ۱۱۶
[7] دیکھیں: المعجم المفھرس لألفاظ القرآن الکریم (ص: ۴۳۹، مادہ سحر)