الصفحة 110 من 140

الف کے عوض یاء کی کتابت کا بیان

شیخین نے چار احوال میں الف کو یاء کی صورت میں لکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

(1) جب الف، یاء سے منقلب ہو،جیسے:

ھُدَٰھُمْ، فَتًی، یَـٰٓـأَسَفَٰی، رَمَیٰ، اسْتَسْقَٰی، أَعْطَٰی، اھْتَدَیٰ

لیکن الْأَقْصَا اور أَقْصَا دونوں جگہ مَن تَوَلَّاہُ، عَصَانِی، سِیمَاھُمْ (الفتح) طَغَا الْمَآئُ اور مَرْضَاتِ جیسے بھی آئے۔ اس قاعدہ سے مستثنیٰ ہیں۔ یہ تمام مصاحف میں الف کے ساتھ مرسوم ہیں۔

یَقُولُونَ نَخْشَـٰٓی (المائدہ)

اس کو بعض مصاحف میں الف اور بعض مصاحف میں یاء کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ امام ابوداؤد نے یاء کو اختیار کیا ہے اور اسی پر عمل ہے۔

وَجَنَی (الرحمن) تُقَاتِہِ (آل عمران)

یہ دونوں کلمات بعض مصاحف میں الف اور بعض مصاحف میں یاء کے ساتھ مکتوب ہیں۔ لیکن پہلے میں یاء اور دوسرے میں الف پر عمل ہے۔

اجْتَبَٰـکُمْ (الحج) اجْتَبَٰہُ (النحل) ئَ اتَٰنِیَ الْکِتَٰبَ (مریم) أَرَٹٰنِیٓ (معًا فی یوسف) نَادَٹٰنَا (الصافات) لَن تَرَٰٹنِی، سَوْفَ تَرَٹٰنِی (الاعراف) أَرْبَٰی (النحل) مَالِیَ لَآأَرَیٰ (النحل) مِنْھُمْ تُقَٰۃً (آل عمران) امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے ان کلمات میں مصاحف کا اختلاف نقل کیا ہے۔ لیکن خود یاء کو اختیار کیا ہے اور اسی پر عمل

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت