الصفحة 95 من 140

زیادت یاء کا بیان

شیخین نے تِلْقَآیئِ نَفْسِیٓ (یونس) وَإِیتَآیئِ ذِی الْقُرْبَیٰ (النحل) ، وَمِنْ ئَانَآیئِ الَّیْلِ (طٰہٰ) ، مِن ورایئِ حِجَابِ، (الشوریٰ) بِأَییِّکُمْ (نون) بِأَیْیْدٍ (الذاریات) أَفَإِیْن (آل عمران، الأنبیائ) اور مِن نَّبَإِیْ (الأنعام) میں یاء کی زیادتی پر اتفاق کیا ہے۔

اسی طرح ہر لفظ مَلأ ٍ جو ضمیر کی طرف مضاف ہو جیسے اِلَٰی فِرْعَوْنَ وَمَلَا ْئِہِ اور وَمَلَا ْئِہِمْ أَن یَفْتِنَھُمْ ان میں بھی شیخین نے یاء کی زیادتی پر اتفاق کیا ہے۔

غازی بن قیس نے بِلِقَآیئِ رَبِّھِمْ، وَلِقَآیئِ الْأَخِرَۃِ (معًا فی الروم) میں یاء کو زیادہ کیا ہے۔

شیخین نے لفظ الَّـٰٓـئِی (الاحزاب، المجادلہ، الطلاق) کو إلی حرف جارہ کی صورت میں لکھنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس کی یاء کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ امام خراز رحمۃ اللہ علیہ اور امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ کے کلام سے مترشح ہوتا ہے کہ تِلْقَآیئِ کی یاء کی مانند اس کی یاء بھی زائدہ ہے۔ جبکہ شیخین کے کلام سے محسوس ہوتا ہے کہ اس کی یاء زائدہ نہیں ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت