الصفحة 111 من 140

ہر وہ الف جس سے پہلے یا بعد میں یاء ہو یا دو یاؤں کے درمیان ہو جیسے:

أَحْیَا، ھُدَایَ، رُئْ یَٰیَ وہ تمام مصاحف میں بصورت الف مرسوم ہے۔ مگر ایک کلمہ سُقْیَٰھَا بعض مصاحف میں یاء کے ساتھ مرسوم ہے۔ امام شاطبی رحمۃ اللہ علیہ نے یہی نقل کیا ہے اور بعض مصاحف میں الف کے ساتھ مکتوب ہے۔ اور شیخین نے بھی یہی نقل کیا ہے۔ اور اسی پر مغاربہ کا عمل ہے۔ جبکہ ہمارے ہاں ترک الف پر عمل ہے۔

اسی طرح لفظ (یَحْیَی تَرَ ٰٓئَ ا، وَنَــَٔـا، رَئَا

ایک قول کے مطابق ان میں واقع لام کلمہ کا الف یاء سے مبدلہ ہے۔

(2) الف تانیث

الف تانیث (فعالی) بضم الفاء وفتحھا اور فعلی (مثلث الفاء میں پایا جاتا ہے۔ جیسے یَتَٰمَٰی، کُسَالَٰی، نَجْوَیٰٓ، طُوبَٰی، إِحْدَٰی،

لیکن دو کلمات کِلْتَا، اور تَتْرًا ایک قول کے مطابق اس سے خارج ہیں۔ یہ تمام مصاحف میں الف کے ساتھ مرسوم ہیں۔

(3) الف مجہولۃ الأصل

یہ سات کلمات میں آتا ہے:

حَتَّـٰـی، إِلَـٰـی، عَلَـٰـی، حروف أَ نَّـٰـی اور مَتَـٰـی استفہامیہ

بَلَـٰـی، لَدَیٰ

مگر ایک کلمہ لَدَا (یوسف) بالاتفاق الف سے مرسوم ہے۔ اور سورۃ الغافر والا کلمہ لَدَیٰ بعض مصاحف میں الف سے مرسوم ہے لیکن اس میں عمل یاء پر ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت