خون ہو کر بہہ گیا دل دیدۂ بے تاب سے
ہو گیا خالی چھلک کر صبر کا پیمانہ آج
مولانا اسحاق چیمہ عالمِ دینِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم
کل تھا سب کا آشنا، اُف سب سے ہے بے گانہ آج
دے رہا تھا جو ہمیں کل تک پیامِ دوستی
چل دیا خود توڑ کر ہم سے وہی یارانہ آج
اک جھلک جس کی دوائے دردِ چشمِ شوق تھی
چل دیا منہ ڈھانپ کر وہ رونقِ کاشانہ آج
جس کا دل مومن کے درد سے پُر درد تھا
سو رہا ہے قبر میں ہر درد سے بے گانہ آج
بن گیا تفسیر کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ کی
اٹھ گیا دنیائے دوں سے اس کا آب و دانہ آج
تو ہی اس کے غم میں اے عاجزؔ نہیں زار و نزار
کتنی آنکھیں ڈھونڈتی ہیں اس کو بے تابانہ آج