محفلوں میں لب پہ اکثر علمِ دیں کا تذکرہ
موجزن سینے میں تھی حرصِ فروغِ علمِ دیں
خوش نشست و خوش قیام و خوش خرام و خوش کلام
خوبصورت، خوب سیرت تھے، نہایت خوش جبیں
وہ کہ تھا جن کا تبسم نگہتِ گل کی مثال
تھیں ادائیں جن کی خوش کن تھیں وفائیں دلنشیں
فیصل آباد آج تجھ سے کون رخصت ہو گیا
اہلِ علم و فہم ہیں کیوں اس قدر اندوہ گیں
اہلِ علم و اہلِ دیں تھے مولانا اسحاقؔ خود
کب بھلا سکتے ہیں اُن کو اہلِ علم و اہلِ دیں
اُن کی جدوجہد تھی سب آخرت کے واسطے
اس لیے کہ آخرت پر تھا انھیں کامل یقیں
دے گئے داغِ جدائی وہ ہمیشہ کے لیے
کون دکھلائے گا اب ان کی ہمیں شکلِ حسیں
اب نہ آئیں گے کبھی واپس وہ بزمِ دہر میں
جو گیا دنیا سے بس وہ ہو گیا پردہ نشیں
یا الٰہی تیرے در پر ہے یہ عاجز کی دعا
مولانا اسحاق کو تو کر عطا خُلدِ بریں
جل رہا ہے آتشِ حسرت میں ہر پروانہ آج
بجھ گئی اک اور شمعِ محفل جانا نہ آج