فهرس الكتاب

الصفحة 467 من 480

تحقیقی اور تبلیغی میدان میں عمدہ ترین اسلوب سے اسلام کی خدمت کر سکیں۔

بحمد اللہ انہی خطوط پر دس گیارہ سال تک کام ہوا اور اسی کے ساتھ ساتھ ادارے کی زیرِ نگرانی تحفیظ القرآن کا پروگرام بھی بنا۔ جس میں سیکڑوں طلبا نے قرآن پاک حفظ کرنے کی سعادت حاصل کی اور چالیس کے قریب طلبا نے ادارہ میں تخصص کیا۔ اسی دوران میں متخصصین حضرات کے بعض مقالات کی اشاعت بھی ہوئی، جسے جماعتی حلقوں نے قدر کی نگاہ سے دیکھا اور انھیں ادارے کی کامیابی کی دلیل قرار دیا گیا۔ مگر افسوس کہ یہ اسلوب بوجوہ قائم نہ رہ سکا۔ جس کی تفصیل یہاں غیر ضروری ہے، اس کے بعد ادارہ میں تمامتر کام تصنیف و تألیف کا ہونے لگا۔ جس میں بحمد اللہ دو درجن کے قریب کتابیں شائع ہوئیں۔ جن میں ''مسند إمام أبی یعلیٰ الموصلی'' چھے جلدوں میں ''العلل المتناھیہ لابن الجوزي'' دو جلدوں میں ''المعجم لأبي یعلیٰ الموصلی'' ایک جلد میں سرفہرست ہیں۔

اہلِ علم جانتے ہیں کہ حدیث کی ان اہم ترین کتابوں کو سب سے پہلی بار طبع کرنے کا شرف ادارۃ العلوم الاثریہ کو حاصل ہے۔ اسی طرح حضرت مولانا شمس الحق ڈیانوی کی ''إعلام أھل العصر بأحکام رکعتي الفجر'' حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی ''جزء رفع الیدین'' کی کامل مکمل عربی میں تخریج و حواشی جسے شیخ العرب و العجم حضرت سید بدیع الدین شاہ صاحب الراشدی نے مرتب فرمایا، بھی اہلِ علم سے خراجِ تحسین وصول کر چکی ہیں۔ فاتحہ خلف الامام کا مسئلہ احناف اور اہلِ حدیث کے مابین فروعی نزاعی مسئلہ ہے، اس موضوع پر ''توضیح الکلام في وجوب القراءة خلف الإمام'' دو ضخیم جلدوں میں شائع ہوئی۔ جسے ہمارے ہفت روزہ ''الاعتصام'' کے تبصرہ نگار نے اس موضوع کا انسائیکلو پیڈیا قرار دیا اور کہا کہ کوئی

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت