الصفحة 115 من 140

اعتماد کیا ہے۔ جبکہ امام ابوداؤد رحمۃ اللہ علیہ نے ھاء پر اعتماد کیا ہے اور یہی غازی رحمۃ اللہ علیہ اور امام عاصم رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے۔

شیخین نے ذَاتَ اور مَرْضَاتِ جیسے بھی آئیں، ھَیْھَاتَ (معًا فی المومنین) وَّلَاتَ حِینَ (ص) اللَّـٰتَ (النجم) یَـٰٓـأَبَتِ جیسے بھی آئے۔ کو ھاء کے عوض تاء سے لکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

اسی طرح غَیَٰبَتِ الْجُبِّ (معًا فی یوسف) جن میں قراء کرام کا افراد و جمع کا اختلاف ہے۔

ئَ ایَٰتٌ لِّلسَّآئِلِینَ (یوسف) ، ئَ ایَٰتٌ مِّن رَّبِّہِ (العنکبوت) فِی الْغُرُفَٰتِ (سبأ) عَلَٰی بَیِّنَتٍ (فاطر) مِن ثَمَرَٰتٍ (فصلت) جِمَٰلَتٌ (المرسلت) اور سورۃ الانعام کے پہلے (کَلِمٰتٍ) میں شیخین نے تاء کی کتابت پر اتفاق کیا ہے۔

لیکن سورۃ الانعام کے دوسرے کَلِمَاتٍ میں مصاحف کا اختلاف ہے۔ بعض عراقی مصاحف میں ھاء کے ساتھ جبکہ باقی مصاحف میں تاء کے ساتھ مکتوب ہے۔ اسی طرح سورۃ الغافر میں بھی مصاحف کا اختلاف ہے، لیکن ان دونوں مقامات پر تاء کے ساتھ کتابت پر عمل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت