فهرس الكتاب

الصفحة 90 من 279

شرط المحبۃ أن توافق مــن تحب علی محبتہ بلا عصیانِ

فإذا ادعیت لہ المحبۃ مع خلا فک ما یحب فأنت ذو بھتانِ

أتحب أعداء الحبیب وتدعي حبًا لہ ما ذاک في إمــــکانِ

وکذا تعادي جاھـدًا أحبابہ أین المحــبۃ یا أخا الشیطانِ

محبت کی شرط یہ ہے کہ تم بلا چوں چرا اپنے محبوب کی مرضی میں اس کی اطاعت کرو 'اگرتم نے اس سے محبت کا دعویٰ کیا اور اس کی مرضی کی خلاف ورزی بھی کرتے رہے' تو اپنی محبت کے دعوے میں جھوٹے ہو۔کیا تم ایک طرف محبوب کے دشمنوں سے والہانہ محبت رکھتے ہو اورپھر اُس سے محبت کے دعوے بھی کرتے ہو' ایسا تو کسی بھی طرح ممکن نہیں،اسی طرح اُس کے محبوبوں سے سخت دشمنی رکھتے ہو! شیطان کے بھائی کہاں ہے محبت!

اے اللہ ! ہم تجھ سے تیری محبت' تجھ سے محبت کرنے والوں سے محبت ' اور تیری محبت سے قریب کرنے والے ہر عمل سے محبت کا سوال کرتے ہیں۔

آٹھویں شرط:اللہ کے علاوہ دیگر معبودان باطلہ کا کفر و انکار۔

یعنی غیر اللہ کی عبادت سے براء ت کا اظہار کرے اور اسے باطل سمجھے' جیساکہ ارشاد باری ہے:

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت