فهرس الكتاب

الصفحة 79 من 279

اگر دل میں یقین کما حقہ راسخ اور پیوست ہوجائے تو جنت کے شوق میں اور جہنم سے فرار کے لئے اڑ جائے۔

تیسری شرط:قبولیت جو انکار کی ضد ہے۔

مقصود یہ ہے کہ کلمہ پڑھنے والا اس کے معنیٰ و مدلول کو اپنے دل وزبان سے قبول کرے اور اس سے راضی وخوش ہو،ورنہ مشرکین بھی 'لا إلٰہ إلا اللہ' کا معنیٰ و مفہوم جانتے تھے'لیکن چونکہ انہوں نے اسے قبول نہ کیا اس لئے اللہ عزوجل نے ان کی مذمت فرمائی' ارشاد ہے:

{إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللّٰہُ يَسْتَكْبِرُونَ} [1]

یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان سے کہاجاتاتھا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو یہ سرکشی کرتے تھے۔

نیز ارشاد ہے:

{فَإِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُونَكَ وَلَـٰكِنَّ الظَّالِمِينَ بِآيَاتِ اللّٰہِ يَجْحَدُونَ} [2]

[2] سورۃ الانعام:۳۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت