{وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ} [1]
انہیں صرف اسی بات کا حکم دیا گیا تھا کہ اللہ کی عبادت کریں اسی کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(( أسعد الناس بشفاعتي یوم القیامۃ من قال لاإلٰہ إلا اللّٰہ خالصًا من قلبہ أو نفسہ ) ) [2]
قیامت کے دن میری شفاعت کا مستحق سب سے نیک بخت شخص وہ ہوگا جس نے دل کے خلوص کے ساتھ 'لا إلٰہ إلا اللہ' کہا۔
بندہ پر واجب ہے کہ اللہ عزوجل سے محبت کرے' اور اسی بنا پر کلمۂ توحید سے بھی محبت کرے اسی طرح اس کے تقاضوں اور معنیٰ و مدلول سے محبت کرے،ارشاد باری ہے:
وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ أَنْدَادًا یُّحِبُّوْنَھُمْ
[2] صحیح بخاری مع فتح الباری ۱/۱۹۳ حدیث (۹۹ و۶۵۷۰) ۔