فهرس الكتاب

الصفحة 262 من 279

اس غلام سے دی گئی ہے جو آپس میں جھگڑنے اور اختلاف کرنے والی ایک جماعت کی ملکیت میں ہو،جو بداخلاق اور اس سے خدمت لینے کے اس قدر حریص ہوں کہ ان تمام لوگوں کو راضی کرنا اس کے لئے ممکن نہ ہو،اور اس طور پر وہ ایک طرح کے عذاب اور کڑھن میں ہو۔

اور موحد چونکہ صرف اللہ وحدہ لا شریک کی عبادت کرتا ہے اس لئے اس کی مثال اس غلام کی سی ہے جو صرف ایک آقا کی ملکیت میں ہو،وہ صرف اسی کا ہو،اسے اس کے مقاصد کا علم ہواور وہ اسے راضی کرنے کا گرسمجھتا ہو،تو ایسا غلام شریکوں کے باہمی کشاکش اور اختلاف سے امن وسکون میں ہوتا ہے،بلکہ وہ خالص اپنے آقا کا ہوتا ہے جس میں کسی کا کوئی تنازعہ نہیں،ساتھ ہی اس کا مالک اس کے ساتھ رحم وکرم،شفقت اور حسن اخلاق سے پیش آتا ہے اور اس کی مصلحتوں کا خیال رکھتا ہے،تو کیا یہ دونوں غلام برابر ہو سکتے ہیں ؟؟ جواب یہ ہے کہ نہیں ہر گز نہیں،دونوں کبھی برابر نہیں ہو سکتے!!!۔ [1]

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت