فهرس الكتاب

الصفحة 259 من 279

الغرض ان معبودان باطلہ سے عاجز ودرماندہ اور کمزور کوئی چیز نہیں ہے،تو کیسے ایک عقلمند شخص اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کو اچھا سمجھتا ہے؟۔

یہ مثال شرک کے بطلان اور مشرکین کی جہالت کے بیان میں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ایک بلیغ ترین مثال ہے۔ [1]

۲- شرک کے بطلان،مشرکین کے خسارہ اور انہیں اپنے مقصود کے برعکس حاصل ہونے کے سلسلہ کی ایک بہترین اور واضح الدلالت مثال اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

{مَثَلُ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ أَوْلِیَائَ کَمَثَلِ الْعَنْکَبُوْتِ اتَّخَذَتْ بَیْتًا وَإِنَّ أَوْھَنَ الْبُیُوْتِ لَبَیْتُ الْعَنْکَبُوْتِ لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ،إِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِہِ مِنْ شَيْئٍ وَھُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ،وَتِلْکَ الْأَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ وَمَا یَعْقِلُھَا إِلَّا الْعَالِمُوْنَ} [2]

[2] سورۃ العنکبوت: ۴۱تا۴۳۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت