فهرس الكتاب

الصفحة 104 من 279

بلکہ وہ حق لے کر آئے اور رسولوں کی تصدیق کی۔

چنانچہ آپ کی آمد دو اعتبار سے اُن کی تصدیق ہے:ایک اس اعتبار سے کہ انہوں نے آپ کی آمد اور بعثت کی خبر دی تھی اور دوسرے اس اعتبارسے کہ آپ نے بھی بعینہ وہی خبریں دیں جو انہوں نے دی تھی اور آپ نے ان کی نبوت کی شہادت بھی دی' اگر (نعوذ باللہ) جھوٹے ہوتے تو اپنے سے پہلے کی باتوں کی تصدیق نہ کرتے جیسا کہ انبیاء علیہم السلام کے دشمن کرتے رہے ہیں۔ [1]

آپ کی صداقت کی ایک عظیم ترین دلیل یہ ہے کہ جب یہودیوں نے آپ کو جھٹلایا تو آپ نے اُن سے کہا:

{فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ} [2]

اگر واقعی تم سچے ہو تو موت کی تمنا کرو۔

لیکن آپ کی تکذیب و عداوت پر متفق ہونے کے باوجود اُن میں سے کسی نے بھی اس بات کی جرأ ت نہ کی' کیونکہ آپ نے انہیں اس بات کی خبر دی تھی

[2] سورۃ البقرۃ: ۹۴۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت