فهرس الكتاب

الصفحة 784 من 6348

وَ اِذْ اَوْحَيْتُ اِلَى الْحَوَارِيّٖنَ ....: یہ بھی اللہ تعالیٰ کا عیسیٰ علیہ السلام پر احسان تھا کہ حواریوں کو ان کا مخلص ساتھی اور مددگار بنا دیا۔ حواری کے قریب قریب وہی معنی ہیں جو ہمارے ہاں انصار کے ہیں۔ یہاں ''اَوْحَيْنَاۤ '' کا معنی انبیاء والی وحی نہیں بلکہ الہام ہے، جو غیر انبیاء کو بھی ہوتا ہے اور اس پر بھی وحی کا لفظ بول دیا جاتا ہے، جیسے فرمایا: {وَاَوْحَيْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّ مُوْسٰۤى } [ القصص: ۷] ''اور ہم نے موسیٰ کی ماں کی طرف وحی کی۔'' حالانکہ قرآن مجید میں صاف آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مردوں ہی کو رسول بنا کر بھیجا (کوئی عورت نبی نہیں ہوئی) ۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۷) اسی طرح فرمایا: {وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ } [ النحل: ۶۸ ] ''اور تیرے رب نے شہد کی مکھی کی طرف وحی فرمائی۔''

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت