فهرس الكتاب

الصفحة 207 من 303

فرقتِ احباب پہ صبر کا اجر:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

(( یَقُولُ اللّٰہُ تَعَالٰی: مَا لِعَبْدِي الْمُؤْمِنِ عِنْدِيْ جَزَائٌ إِذَا قَبَضْتُ صَفِیَّہُ مِنَ الدُّنْیَا ثُمَّ احْتَسَبَہُ إِلَّا الْجَنَّۃَ ) ) [1]

''اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرا وہ مومن بندہ جس کا اہلِ دنیا میں سے کوئی محبوب فوت ہو جائے، پھر وہ صبر کرتے ہوئے مجھ سے اجر و ثواب کا طلبگار ہو تو میرے پاس اس کے لیے سوائے جنت کے اور کوئی بدلہ نہیں-''

نیز حضرت ابو موسی الاشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

(( إِذَا مَاتَ وَلَدُ الْعَبْدِ قَالَ اللّٰہُ لِمَلاَئِکَتِہٖ: قَبَضْتُمْ وَلَدَ عَبْدِيْ؟ فَیَقُولُونَ: نَعَمْ، فَیَقُولُ: قَبَضْتُمْ ثَمَرَۃَ فُؤَادِہٖ؟ فَیَقُولُونَ: نَعَمْ، فَیَقُولُ: مَاذَا قَالَ عَبْدِيْ؟ فَیَقُولُونَ: حَمِدَکَ وَاسْتَرْجَعَ، فَیَقُولُ اللّٰہُ: ابْنُوا لِعَبْدِيْ بَیْتًا فِيْ الْجَنَّۃِ وَسَمُّوہُ بَیْتَ الْحَمْدِ ) ) [2]

''جب کسی آدمی کا بیٹا فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے پوچھتے ہیں: تم نے میرے بندے کے بیٹے کو قبض کر لیا؟ وہ کہتے ہیں: جی ہاں- اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: تم نے میرے بندے کے لختِ جگر کی روح قبض کرلی؟ وہ کہتے ہیں: جی ہاں- تو اللہ تعالیٰ پوچھتے ہیں: میرے بندے نے اس وقت کیا کہا تھا؟: وہ جواب دیتے ہیں کہ اس نے تیرا شکر ادا کیا تھا اور { إِنَّا للّٰہِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ } پڑھا تھا۔ تو اللہ تعالیٰ

[2] سنن الترمذي، رقم الحدیث (۱۰۲۱) .

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت