فهرس الكتاب

الصفحة 176 من 303

''رَأَیْتُ قَبْرَ النَّبِیِّ وَ قَبْرَ أَبِيْ بَکْرٍوَعُمَرَ مُسَنَّمًا'' [1]

''میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کو دیکھا کہ وہ کوہان نما تھیں-''

قبر پر مٹی ڈالنے کے بعد اس پر پانی کا چھڑکاؤ مسنون ہے۔ حدیث پاک میں ہے:

(( رَشَّ عَلَی قَبْرِ ابْنِہِ إِبْرَاہِیْمَ الْمَائَ ) ) [2]

''نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فرزندِ ارجمند حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی قبر پر پانی چھڑکا تھا۔''

دفن سے فراغت کے بعد دعا:

دفن سے فراغت کے بعد قبر کے پاس کھڑے ہو کر میت کے لیے اس کی ثابت قدمی اور مغفرت کے لیے دعا کریں- حضرت عثمان سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب میت کو دفن کر کے فارغ ہوتے تو فرمایا کرتے تھے:

(( اِسْتَغْفِرُوْا لِأَخِیْکُمْ وَسَلُوْا اللّٰہَ لَہُ الْتَثْبِیْتَ فَإِنَّہُ الْآنَ یُسْئَلُ ) ) [3]

''اپنے بھائی کے لیے بخشش اور ثابت قدمی کی دعاکرو اس وقت اس سے سوالات پوچھے جار ہے ہیں-''

فَثَبِّتْنِيْ عَلَی الْإِیْمَانِ رَبِّيْ وَفِيْ قَبْرِيْ عَلَی رَدِّ السُّؤَالِ

'' میرے پروردگار! مجھے ایمان پر ثابت قدم رکھنا اور قبر میں سوالات کے صحیح جوابات کی توفیق عطا کرنا۔''

[2] السلسلۃ الصحیحۃ، رقم الحدیث (۳۰۴۵) .

[3] سنن أبي داود، رقم الحدیث (۳۲۲۳) .

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت