سلف صالحین کی ایک جماعت نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ کچھ لوگ عزیر علیہ السلام [1] اور مسیح علیہ السلام اور فرشتوں کو پکارتے تھے، ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جن لوگوں کو تم پکارتے ہو وہ خود بھی تقرب الٰہی کے محتاج، اس کی رحمت کے آرزو مند اور اس کے عذاب سے لرزاں و ترساں ہیں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ کی شفاعت سے کون سب سے زیادہ بامراد اور کامیاب ہوگا؟ فرمایا: ''میری شفاعت سے سب سے زیادہ بہرہ مند وہ ہوگا جس نے اخلاص کے ساتھ ''لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ'' کہا ہوگا۔'' [2]
پس اللہ تعالیٰ کے ساتھ جس کا اخلاص جتنا زیادہ ہوگا وہ شفاعت کا اتنا ہی زیادہ مستحق ہوگا لیکن جس کا دل کسی مخلوق سے لٹک چکا ہے، وہ اس سے آرزو رکھتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے تو وہ شفاعت سے بہت دور ہوگا۔
جب آپ کسی آدمی کے پاس سفارش کے لیے جاتے ہیں تو پہلے سے اس کی اجازت حاصل نہیں کرتے بلکہ زیادہ تر اس خیال سے جاتے ہیں کہ وہ آدمی کسی بات میں تمھارا محتاج یا کسی وجہ سے تم سے خائف ہے، لہٰذا تم سمجھتے ہو کہ وہ تمھاری سفارش پر توجہ کرنے کے لیے مجبور ہوجائے گا لیکن اللہ تو سب سے بے نیاز ہے، وہی سب کا کارساز اور فرماں روا ہے، لہٰذا
[2] صحیح البخاری، الرقاق، باب صفۃ الجنۃ والنار، حدیث: 6570