فهرس الكتاب

الصفحة 147 من 275

ان کی دنیا وآخرت برباد ہوجاتی ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

{ادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ}

''پکارو اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے سے، یقینا وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔'' [1]

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دعا میں بے اعتدالی اورحد سے تجاوزکو پسند نہیں کرتا، نہ دعاکی کیفیت میں اور نہ دعا کے مطلوب میں، لیکن بے اعتدالوں کی دعائیں بھی کبھی کبھی قبول کرلیتا ہے مگر وہ ان کے حق میں فتنے کا سامان ہوتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فتنے میں نہیں ڈالنا چاہتا مگر وہ خود ہی اس قسم کی دعا کرکے فتنے میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

جادو سے مرادیں برآنا

اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جادو، طلسمات اور نظر بندی کے ذریعے سے بھی اللہ تعالیٰ بہت سے شریر لوگوں کی مرادیں پوری کردیتا ہے، جیسا کہ ہمیشہ دیکھا جاتا ہے مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمادیا ہے:

{ وَلَقَدْ عَلِمُوا لَمَنِ اشْتَرَاهُ مَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ ۚ وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهِ أَنفُسَهُمْ ۚ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ 102} وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللّٰهِ خَيْرٌ ۖ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ

''اور وہ یقین کے ساتھ جانتے ہیں کہ اس کے لینے والے کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور وہ بدترین چیز ہے جس کے بدلے وہ اپنے آپ کو فروخت کررہے ہیں۔ کاش کہ یہ جانتے ہوتے! اگر یہ لوگ صاحب ایمان، متقی بن جاتے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت