الصفحة 172 من 255

"وہابیوں کا یہ کہنا کہ قبروں کو چومنا شرک ہے، یہ ان کا غلو ہے۔" [1]

نیز:

نذر غیر اللہ سے آدمی مشرک نہیں ہوتا۔" [2] "

قبروں کے گرد طواف کرنا بھی بریلوی شریعت میں جائز ہے:

"اگر برکت کے لیے قبر کے گرد طواف کیا تو کوئی حرج نہیں۔" [3]

اس لیے کہ:

اولیاء کی قبریں شعائر اللہ میں سے ہیں اور ان کی تعظیم کا حکم ہے۔" [4] "

نیز:

طواف کو شرک ٹھہرانا وہابیہ کا گمان فاسد اور محض غلو و باطل ہے۔" [5] "

عرس کی وجہ تسمیہ:عرس کو عرس اس لیے کہتے ہیں، کیونکہ یہ عروس یعنی دولہا محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے دیدار کا دن ہے۔" [6] "

احمد یار گجراتی کا فتویٰ ہے:

"نماز صرف اس کے پیچھے جائز ہے جو عرس وغیرہ کرتا ہو۔ اور جو ان چیزوں کا مخالف ہو، اس کے پیچھے نماز جائز نہیں۔" [7]

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و سلم بھی غیر اسلامی عید ہے۔ قرون اولیٰ میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ خود دیدار علی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ میلاد شریف کا سلف صالحین

[2] ایضًا ص 207۔

[3] بہار شریعت از امجد علی رضوی جزء 4 ص 133۔

[4] علم القرآن از احمد یار ص 36۔

[5] حکایات رضویہ ص 46۔

[6] حکایات رضویہ ص 146۔

[7] الحق المبین از احمد سعید کاظمی ص 74۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت