الصفحة 49 من 255

ورنہ صندوقچی کی موجودگی میں نذرانوں اور لوگوں سے ادھار لینے کی ضرورت کیا تھی ؟

عادات اور طرز گفتگو

بریلوی اعلیٰ حضرت پان کثرت سے استعمال کرتے تھے، حتیٰ کہ رمضان المبارک میں وہ افطار کے بعد صرف پان پر اکتفا کرتے۔ [1]

اسی طرح حقہ بھی پیتے تھے۔ [2] دوسری کھانے پینے کی اشیاء پر حقہ کو ترجیح دیتے۔ ہمارے ہاں دیہاتیوں اور بازاری قسم کے لوگوں کی طرح آنے جانے والے مہمان کی تواضع بھی حقے سے کرتے۔ [3]

مزے کی بات ہے کہ بریلوی اعلیٰ حضرت سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا:

"میں حقہ پیتے وقت بسم اللہ نہیں پڑھتا، تاکہ شیطان بھی میرے ساتھ شریک ہو جائے۔ [4] "

لوگوں کے پاؤں چومنے کی عادت بھی تھی۔ ان کے ایک معتقد راوی ہیں کہ:

"آپ حضرت اشرفی میاں کے پاؤں کو بوسہ دیا کرتے تھے۔ [5] "

جب کوئی صاحب حج کر کے واپس آ جاتے تو ایک روایت کے مطابق فورًا اس کے پاؤں چوم لیتے ! [6]

[2] کتنی عجیب بات ہے دوسروں کو معمولی باتوں پر کافر قرار دینے والا کود کیسے حقہ نوشی کو جائز سمجھتا ہے اور اس کا مرتکب ہے؟

[3] حیات اعلیٰ حضرت ص 67

[4] ملفوظات

[5] اذکار حبیت رضا طبع مجلس رضا لاہور ص 24

[6] انوار رضا ص 306

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت