دعاء کی [1] یعنی ولیہ کے پاس دعا کرنا باعث قبول ہے۔ [2]
نیز:
"قبروں پر عرس اولیاء کی خدمت میں حاضری کا سبب ہے اور یہ تعظیم شعائر اللہ ہے اور اس میں بے شمار فوائد ہیں۔" [3]
احمد رضا کے ایک اور شاگرد کہتے ہیں:
"اولیائے کرام کی قبروں پر عرس کرنا اور فاتحہ پڑھنا برکات کا باعث ہے۔ بے شک اولیاء اللہ اپنی قبروں میں زندہ ہیں اور مرنے کے بعد ان کی طاقتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔" [4]
نعیم الدین مراد آبادی لکھتے ہیں:
"عرس کرنا اور اس موقع پر روشنی، فرش اور لنگر کا انتظام کرنا شریعت [5] سے ثابت اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت ہے۔" [6]
نیز:
اولیاء کے مزارات میں نماز پڑھنا اور ان کی روحوں سے مدد طلب کرنا برکات کا باعث ہے۔" [7] "
[2] جاء الحق ص 335۔
[3] مواعظ نعیمیہ از گجراتی ص 224۔
[4] بہار شریعت جز ء اول ص 56۔
[5] بریلوی شریعت سے تویہ بات ثابت ہو سکتی ہے،اسلامی شریعت سے ثابت نہیں ہے !
[6] رسالہ المعجزۃ العظمیٰ المحمدیہ درج فتاویٰ صدر الافاضل نعیم مراد آبادی ص 160۔
[7] رسالہ حاجز البحرین از بریلوی درج فتاویٰ رضویہ جلد 2 ص 333۔