فهرس الكتاب

الصفحة 82 من 529

فروخت ، تجارت و کاروبارسے متعلقہ احکامات عمومًا ''کتاب البیوع '' ہی کے تحت بیان ہوئے ہیں۔

اصطلاح میں بیع سے مراد ہے:

قیمت کے عوض، باہمی رضامندی سے،بغرضِ ملکیت مال و سامان کا تبادلہ کرنا۔

بیع کے ارکان

'ارکان' رکن کی جمع ہے اور رکن اُسے کہتے ہیں کہ جس پر مطلوبہ چیز کا وجود و تصور موقوف ہو یعنی جس کی موجودگی کے بغیر عمل کی درستگی ممکن نہ ہو ۔

جمہور اہلِ علم کے یہاں بیع کے تین بنیادی ارکان ہیں:

aالمعقود بہ (صیغہِ عقد: جس کے ذریعہ عقد طے کیا جائے) (Wording of the contract )

یعنی ایجاب وقبول یا اُن ہی کے مثل ایسے الفاظ جن کے ذریعہ سے عقد طے پائے۔

bالعاقد (Dealer) (عقد کرنے والے) جو کہ خریدار (Buyer) اور فروخت کنندہ (Seller) ہیں۔

cالمعقود علیہ (جس پر عقد طے کیا جائے) اس سے مراد: ''قیمت'' (Value) اور''وہ چیزہے جس کا سودا قیمتًا مقصود ہو (Valuable items) ''۔

اب کوئی بھی بیع اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتی جب تک اس میں یہ تینوں ارکان موجود نہ ہوں ۔

البتہ''صیغہ عقد''کے حوالہ سے یہ سمجھنا چاہئے کہ''کسی بھی معاملہ کے انعقاد کے لئے شارع نے کوئی خاص صیغہ (Word or Term) مقرر نہیں فرمایا بلکہ ہر وہ قول یا فعل جوعرفِ عام میں رائج ہو (بشرطیکہ اس میں کوئی شرعی قباحت نہ ہو ) جو معاملہ کے انعقاد پر دلالت کرے اس سے بیع مکمل ہوجاتی ہے۔ تاجر وکاروباری حضرات اس سے بخوبی واقف ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت