الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ، وَالْفِضَّةُ بِالْفِضَّةِ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ سَوَاءً بِسَوَاءٍ يَدًا بِيَدٍ، فَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الْأَصْنَافُ، فَبِيعُوا كَيْفَ شِئْتُمْ إِذَا كَانَ يَدًا بِيَدٍ .
[1] '' سونے کے بدلہ سونا ، چاندی کے بدلہ چاندی ، جو کے بدلہ جو کھجور کے بدلہ کھجور، نمک کے بدلہ نمک برابر ہو اور ہاتھوں ہاتھ ہو اور جب یہ اجناس مختلف ہوں تو جیسے چاہو بیچو جب یہ ہاتھوں ہاتھ ہوں''
لہٰذا شئیرز کی خرید وفروخت میں ادھار درست نہیں ، خاص طور پر اس لئے بھی کہ مستقبل کے سودے کے ذریعہ شئیرز کے لین دین میں جوا بھی کھیلا جاتا ہے، اسی طرح صرف وہی شئیرز بیچے جائیں جن کی ملکیت حاصل ہو ، ایسا نہ کیا جائے کہ پہلے شئیرز کا سودا کرلیا پھر کہیں سے وہ شئیرز لے کر خریدار کو تھمادئیے ، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:"لا تبع ما ليس عندك":"جس چیز کے تم مالک نہیں ہو وہ مت بیچو" [2] ۔
[2] أبو داود:3503 ، والترمذي: 1232