اقتصاد مضبوط ہو رہا ہے کیونکہ ان کے ملک کی دولت بڑھ رہی ہے کبھی بھی وہ مجبوری میں اس مال کو استعمال کر سکتے ہیں اور اکثر ممالک یہ فوائد مسلم ممالک کو نقصان پہنچانے کے لئے استعمال کرتے ہیں یا مسلمانوں کو سودی قرضےدے کر ان پر مزید دباؤ بڑھاتے ہیں۔
اسی طرح آج کل کے ایک نام نہاد ڈاکٹر پروفیسر صاحب کا فتوی نظر سے گزار کہ فرماتے ہیں کافر ممالک میں رہائش پذیر لوگ سود لے سکتے ہیں سود کے یہ احکام صرف مسلمان ممالک پر لاگو ہوتے ہیں۔
ایسا عجیب فتوی یقینا مسلمانوں کے لیے شرّ عظیم کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔اگر کوئی اسی قسم کی بات زنا /حرام گوشت، کھانے وغیرہ کے بارے میں کہے تو ہمارا کیا رد عمل ہوگا ؟ کیا یہ امور بھی وہاں حلال ہو جائیں گے؟
اللہ تعالی ہمیں ربا کے تمام حیلوں سے بچنے اور اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکامات کے سامنے سرخم تسلیم کرنے والا بنائے ( آمین)
وصلی اللّٰه و سلم علی نبینا محمد و علی آلہ وصحبہ أجمعین