سوم: اس صورت میں غرر (دھوکہ) واضح شکل میں موجود ہے ، خریدار کو یہ پتہ نہیں کہ معاہدہ کس پر مکمل ہوگا صرف سامان پر یا نقد ہدیہ پر ۔ ؟
اسی خدشے کے تحت بیع الحصاۃ [1] ، بیع الملامسہ [2] اور بیع المنابذہ [3] سے احادیثِ صریحہ میں منع فرمایا گیا ہے ۔ مذکورہ بالا گفٹ کی صورت بھی ان صورتوں سے ملتی جلتی ہے ۔
چہارم: اس کے جائز قرار دینے سے لوگوں کو بہت سی ایسی چیزیں خریدنے پر ابھارا جا تا ہے جن کی انہیں ضرورت نہیں ہوتی ، ان کا مقصد محض اس سے تحفہ نکالنا ہوتا ہے اور بلا ضرورت چیزیں خریدنا اسراف اور فضول خرچی میں شمار ہوتا ہے جس سے شریعت نے منع فرمایا ہے ۔
[2] ملامست کا طریقہ یہ تھا کہ ایک شخص کوئی چیز مثلا کپڑا خریدنے جاتا تو کپڑے کو ہاتھ لگا دیتا کپڑے کو ہاتھ لگاتے ہی بیع ہو جاتی تھی نہ تو آپس میں قولی ایجاب وقبول ہوتا تھا۔
[3] منابذت کی صورت یہ ہوتی تھی کہ دونوں صاحب معاملہ نے جہاں آپس میں ایک دوسرے کی طرف کپڑا ڈالا بس بیع ہو گئی مبیع کو دیکھنے بھالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہ بھی ایام جاہلیت میں رائج بیع کا ایک طریقہ تھا لہذا اس کی ممانعت بھی فرمائی گئی