فهرس الكتاب

الصفحة 7 من 529

اداریہ

اسلامی بینکاری ایک تاریخی اورشرعی جائزه

خالد حسین گورایہ

بینک ایک ایسا ادارہ ہے جو آج کے معاشی نظام میں اعصاب کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اور عصرِ حاضر میں جبکہ دنیا گلوبل ویلیج کی صورت اختیار کر چکی ہے اس ادارہ کے بغیر بڑی بڑی تجارتی منڈیاں چلانا تقریبًا ناممکن ہوچکاہے ۔ مغربی بینکوں کے وجود میں آنے کے بعد اہل ِاسلام نے بھی اس میدان میں کوششیں شروع کردیں کہ بینکاری سسٹم کو شرعی خطوط پر استوار کیا جائے اور پوری دنیا میں کمرشل اور سودی بینکوں کے مقابلے میں اسلامی بینک بنائے جائیں ۔ ابتدا میں انفرادی سطح پر یہ سوچ پیدا ہوئی اور بالآخر اس نے اجتماعی شکل اختیار کرلی اور ایک اسلامی بینکاری سسٹم عملی طور پر متعارف کرادیا گیا اس سسٹم کے قیام کے لئے متعدد پلیٹ فارموں سے کاوشیں کی گئی جن کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔

آغاز وارتقاء:

اسلامی نظام بینکاری کوئی ساٹھ ستر دہائیوں پر محیط نظام ہے جس کا آغاز مصر سے 1963ء میں میت غمر کے اسلامک بینک کے قیام کی صورت میں ہوا تھا ۔اس سے قبل اس حوالے سے چند کاوشیں اور تجربے جنوبی ہند کی مسلم ریاست حیدرآباد میں بھی ہوچکے تھے۔ حیدرآباد دکن کے اس تجربے کے بعد1950ء، 1951 ء میں اس طرح کی ایک ہلکی سی کاوش پاکستان میں بھی ہوئی ۔ جس میں شیخ احمد رشاد نے کلیدی کردار ادا کیا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت