فهرس الكتاب

الصفحة 98 من 186

ایک مسلمان عورت کالباس تو لمبا،پورے جسم کوڈھانپنے والا،موٹا اورکشادہ ہوتا ہے۔حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ حدیث کے الفاظ (کاسیات عاریات) کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اس مراد یہ ہے کہ عورت ایسالباس پہنے جو جسم کیلئے ساترنہ ہو،لہذا وہ لباس پہنے ہوئے بھی برہنہ دکھائی دیتی ہے،مثلًا:اس کالباس اتناباریک ہے کہ اندر سے جسم جھلکتا ہے،یااتنا تنگ ہے کہ جسم کے نشیب وفراز نمایاں ہوتے ہیں،جس شیٔ کا نام لباس ہے وہ تو ایسا ساتر،موٹا اور کشادہ ہوناچاہئے کہ نہ تو عورت کے جسم کی نہ اس کے اعضاء کےحجم کی نمائش ہو۔

حدیث میں وارد الفاظ (ممیلات مائلات) اس عورت پرمنطبق ہوتے ہیں جو چھوٹا، باریک اور تنگ لباس پہنے،چنانچہ یہ عورت مائلہ یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے منحرف ہے، اس کے علاوہ حیاء کے تقاضوںنیز باوقار عورتوںکی قابل تعریف خصلت سے بھی پہلوتہی برتے ہوئے ہے۔

یہ عورت ممیلہ یعنی دوسری عورتوں کو اپنی طرف مائل کرنے والی ہے،چنانچہ وہ اپنی زبان یا اپنے فیشن کے ذریعہ دوسری عورتوں کو ویسا بننے کی دعوت دیتی رہتی ہے۔ (جبکہ ممیلہ کا ایک معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے بے حیائی پر مبنی فیشن کے ذریعے بدکردار مردوں کیلئےکشش کاسامان فراہم کرتی ہے )

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت