اندر ڈھانپے رکھنے کےتعلق سے معقول رواج اور معتبر عرف موجودہے۔
عورت اپنے گھر میں اپنے محرم مردوں یادیگر عورتوں کی موجودگی میں اپنے جسم کے وہی حصے منکشف رکھ سکتی ہے جو گھر میں ہوتے ہوئے غالبًا منکشف رہتے ہیں،بعض لوگوں کی تعبیر کے مطابق ان حصوںکو کھلا رکھ سکتی ہے جو عادۃً گھر کے اندرڈھانپے نہیں جاتے۔
وہ حصے یہ ہیں:چہرہ،سر،گردن،ہاتھ،کلائی،پاؤں اورپنڈلی کا نچلاحصہ۔
اس کے علاوہ اس کیلئے جسم کے کسی حصے کو کھلارکھنا جائز نہیں ہے۔
علامہ ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتےہیں:مرد کیلئے جائز ہے کہ وہ اپنی محرم خاتون کے جسم کے صرف اس حصےکو دیکھ سکتا ہے جوغالبًا کھلے رکھے جاتے ہیں، جیسے: گردن،سر،دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں وغیرہ،اور مرد کیلئے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنی محرم خاتون کے جسم کے ان حصوںکودیکھے جوعام طورپرڈھانپے جاتے ہیں،جیسے:سینہ،اورکمروغیرہ۔ [1]
فقہاءِ مالکیہ نے بھی یہی قول اختیار کیاہے۔ [2]
[2] الفقہ الاسلامی للرحیلی ۱؍۵۸۷،۵۹۵