غالب کاحکم منطبق ہوتاہے۔
اس قاعدہ کے تحت بھی یہ بات متعین ہوجائے گی کہ عورت اپنےلئے چہرے کا پردہ لازم قراردے۔
علامہ ابوالعباس ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے امرِ واقع اور لوگوں کے احوال کے پیشِ نظر اسی قسم کا فتویٰ دیاتھا،فرماتے ہیں:
صحابہ کرام کے دور میں لونڈیاں کھلے چہروں کے ساتھ باہر چلاپھرا کرتی تھیںاوردلوں کی تمام تر پاکیزگی کے ساتھ مَردوں کی خدمت کیاکرتی تھیں، لیکن آج کے دور میں ان شہروں میں موجود خوبصورت ترکی لونڈیاں، باہر مَردوں کے بیچ کھلے چہرے چلتی پھرتی چھوڑ دی جائیں تو فتنہ وفساد کا بہت بڑا دروازہ کھل جائے گا۔ [1]
عورتوں کے سامنے نیز محرم مَردوں کی موجودگی میں ایک خاتون اپنے جسم کے وہ حصے کھلا رکھ سکتی ہےجو عرفًا وعادۃً کھلے رہتے ہیں، مثلًا: چہرہ، سر کے بال،