علیہ قضیہ میں پائی جانے والی علت کے مثل ہو،اس صورت میں سابقہ اختلاف قائم ہے (چنانچہ کچھ علماء اس نئے قضیہ کو ،پرانے قضیہ کے ساتھ اتحادِ علت کی بناء پر نصًا ملحق کرتے ہیں، جبکہ بعض قیاسًا)
یہ اختلاف محض صوری ہے ؛کیونکہ دونوں صورتوں میں حکم کا نتیجہ ایک ہی ظاہر ہوتا ہے،جویہ ہے کہ نئے قضیہ کاحکم پہلے قضیہ جیسا ہی ہے۔
تیسری صورت یہ ہے کہ نئے قضیہ کی علت،پرانے منصوص علیہ قضیہ کی علت سے کم تر ہو،دریں صورت نیاقضیہ،منصوص علیہ قضیہ کے ساتھ حکمًا ملحق نہیں ہوسکتا۔
دوسراامر
اللہ تعالیٰ نے (اس سلسلہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور دوسری عورتوں کے مابین فرق نہیں فرمایا،چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
]يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَبَنٰتِكَ وَنِسَاۗءِ الْمُؤْمِنِيْنَ يُدْنِيْنَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيْبِهِنَّ ۭ ذٰلِكَ اَدْنٰٓى اَنْ يُّعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا 59] [1]
ترجمہ:اے پیغمبر اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو