ابن نظام الدین الانصاری الحنفی سنت کی تعریف سلسلے میں تحریر کرتے ہیں:
"أقوال النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم و أفعاله و تقریراته التی یستدل بها على الأحکام الشرعیة." [1]
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال افعال اور تقریرات جن سے احکام شرعیہ مستنبط کیے جاتے ہیں۔
مالکیہ کی کتب اصول میں وہی تعریف کی جاتی ہے جو دیگر کے ہاں منقول ہے؛ چنانچہ الشعلان رقم طراز ہیں:
"فهی ما أضیف إلى رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم من قول أوفعل أوتقریر." [2]
علما ے حنابلہ میں سے شارح روضۃ الناظر سنت کی تعریف یوں کرتے ہیں:
"أن السنة ما صدر عن النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم غیر القرآن من قول أوفعل أو تقریر ممایخص الأحکام التشریعیة." [3]
بلاشبہ سنت وہ ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کے علاوہ قول و فعل اور تقریرات ہیں جن کا تعلق تشریع احکام سے ہو۔
اہل الحدیث اور لامسلکیت کے ترجمان امام شوکانی سنت کی تعریف بارے ارشاد الفحول میں ترقیم فرماتے ہیں۔
"وفي الأدلة ماصدر عن البنی صلی اللّٰه علیہ وسلم من غیر القرآن من قول أو فعل أو تقریر وهذا هو المقصود بالبحث عنه في هذا العلم."
ادلہ شرعیہ میں سنت اُسے کہا جاتاہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن کے علاوہ بہ طور قول فعل اور تقریر کے صادر ہو اور اصول کی کتب میں اسی سے ہی بحث مقصود ہے۔
جمہور اہل السنۃ کے نمائندہ علماء کی تعریفات درج بالا سطور میں ذکر کی گئی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ اہل السنت و الجماعۃ کے تمام مکاتب فکر سنت کی تعریف و تفہیم کے سلسلہ میں متفق ہیں۔سواے ایک دو نکات کے کہ جن سے تعریف میں مزید جامعیت پیدا ہوئی،مثلًا امام آمدی شوکانی اور حنابلہ نے سنت کی تعریف کرتے ہوئے قرآن کریم کو اس سے خارج کیا ہے کہ حدیث متعبد بالتلاوۃ نہیں ہے حدیث اپنے جملہ الفاظ اور محاورات میں بیان معجز کا درجہ نہیں رکھتی گویا کہ سنت اُسے کہا جائے گا جو آپ سے غیر قرآن چیز صادر ہو اسی طرح شوکانی حنابلہ اور حنفیہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال اور تقریرات کے ساتھ یہ قید بھی لگائی ہیں کہ ایسے نصوص جن سے احکام شرعیہ پر استدلال ہوتا ہو۔ دیگر اقوال و افعال اور تقاریر کو اس سے خارج کر
[2] الشعلان: اصول فقہ الاعام مالک (ادلتہ النقلیۃ) ، 2؍617 ادارۃ العامہ للشقافۃ والنشر السودیۃ
[3] اتحاف دوی البصائر بشرح روضۃ الناصر فی اصول الفقہ، 10؍3 ط دارالعاصمۃ للشر و التوزیغ 1996