دیا ہے۔ مالکیہ میں صاحب مراقی السعود نے قول و فعل اور تقریر کے ساتھ وصف نبوی کا بھی اضافہ کیا ہے جسے خود مالکی اہل اصول نے مسترد کر دیا ہے، لہذا سنت کی جامع تعریف یہ ہوئی کہ قرآن کریم کے علاوہ آپ سے صادر ہونےوالے وہ افعال و اقوال اور تقریرات جن سے استدلال احکام میں معاونت حاصل ہو وہ سنت عندالاصولیین کہلائیں گے۔
حجیت سنتسنت کا شرعی مصداق متعین ہونے کے بعد اہم مسئلہ یہ ہے کہ سنت کا بہ طور شرعی دلیل وبرہان اور حجیت کے کیا مرتبہ ہے ؟ اس حوالے جمہور علما ءامت کے افکار کا مطالعہ پیش کیاجاتاہے۔سنت کے مستقل ماخذ شریعت ہونے کے حوالے سے قاضی شوکانی رقم طراز ہیں:اس بات کا یقینی علم ہونا ضروری ہے کہ اہل سنت کے تمام ایسے علماء جن کے علمی قدو قامت کا اعتراف کیا جاتا ہے، اس پر متفق ہے کہ سنت پاک تشریحِ احکام میں قرآن کی طرح مستقل حیثیت کی حامل ہے۔ یہ قرآن کریم کی طرح حلال اشیا کی حلت کا حکم بھی لگاتی ہے اور اشیائے محرمۃ کی حرمت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے ۔کیوں کہ نبی گرامی قدر کا ارشاد ہے خبردار مجھے قرآن اور اس کی مثل ایک اور شے بھی عنایت کی گئی ہے۔ یعنی قرآن بھی عنایت کیا گیا اور مجھے قرآن کی مثل سنت بھی عنایت کی گئی ہے جو ان اشیاء میں قاضی اور فیصل ہو گی جن میں قرآن خاموش ہے۔جس طرح گھریلو گدھے کے گوشت کی تحریم میں پنجے والے پرندے کی حرمت میں اور اس کے علاوہ بے شمار اشیاء کی تحریم و تحلیل میں سنت مستقل ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔ [1]
حجیت سنت پر امام شافعی کا نقطہ نظر
امام شافعی نے حجیت سنت پر الرسالۃ میں بہت خوبصورت بحث کی ہے اورپورے شرح و بسط سے ثابت کیا ہے کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ایک مستقل ماخذ تشریح اسلامی ہے۔ ذیل میں آپ کے افکار کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے۔
امام شافعی فرماتے ہیں:
اللہ رب العزت کے دین میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوفرائض نبوت اور تبین کتاب اللہ کے حوالے سے جس مقام رفیع پر جگہ دی ہے خود ہی قرآن کریم نے اس کی وضاحت کر دی ہے اور فرمایا ہے کہ آپ کو دین اسلام کی پہچان کا علم بنا کر بھیجا، آپ کی اطاعت و فرماں برداری کو فرض قرار دیا آپ کی معصیت و نافرمانی کو حرام ٹھیرایااور اس قدر بلند مقام پہ فائز کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان کو اپنی ذات پر ایمان کےساتھ اس طرح منسلک کردیا کہ ایک ضیاع سے دونوں ہی ضائع ہوجاتے ہیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے:
{ فَآمِنُوا بِاللّٰهِ وَرُسُلِهِ ۖ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ ۚ انتَهُوا خَيْرًا لَّكُمْ ۚ إِنَّمَا اللّٰهُ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ سُبْحَانَهُ أَن يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ } [2]
[2] النساء،4:171